Tuesday, 7 August 2012
Talk With Moosa(R.A)
اللہ نے فرمایا اے موسی اس بستی میں ایک شخص ایسا سیاہ کار ہے جس کا ایک لمحہ بھی گناہ کے بغیر نہیں گزرتا . جب تک وہ شخص اس بستی میں موجود ہے اس بستی پر رحمت کی بارش نہیں ہوسکتی.
موسی واپس ھو لئے . واپسی پر وہ اس قحط زدہ بستی میں گئے جس کے مکینوں نے آپ سے دعا کی درخواست کی تھی . آپ نے بستی کے سردار کو طلب کیا اور اس کو تمام ماجرا سنا دیا اور فرمایا اگر تم چاہتے ھو کہ تم پر سے عذاب ٹل جائے. تو اس شخص کا پتہ کرو اور اسے تلاش کر کے بستی سے نکال دو.
بستی کے سردار نے تمام بستی وا
موسی واپس ھو لئے . واپسی پر وہ اس قحط زدہ بستی میں گئے جس کے مکینوں نے آپ سے دعا کی درخواست کی تھی . آپ نے بستی کے سردار کو طلب کیا اور اس کو تمام ماجرا سنا دیا اور فرمایا اگر تم چاہتے ھو کہ تم پر سے عذاب ٹل جائے. تو اس شخص کا پتہ کرو اور اسے تلاش کر کے بستی سے نکال دو.
بستی کے سردار نے تمام بستی وا
لوں کو ایک میدان میں جمع ہونے کا حکم دیا.جب تمام لوگ گھروں سے نکل کر اس وسیع میدان میں بیٹھ گئے تو سردار نے قحط اور عتاب الہی کی وجہ بیان کرتے ہوئے اس شخص سے بستی چھوڑ جانے کی درخواست کی. ادھر میدان میں موجود لوگوں میں وہ شخص بھی موجود تھا اس نے جب سردار کی بات سنی تو لرز کر رہ گیا . احساس ذلت نے اس کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا . وہ انتظار کرتا رہا کہ شاید کوئی اس سے بھی بڑا گناہگار اٹھ کر چلا جائے لیکن کوئی نہ اٹھا . تب اسے احساس ہوا کہ وہی سب سے بڑا گناہگار ہے اور یہ کہ اسے اس بستی سے چلے جانا چاہئے. وہ اٹھنے ہی لگا تھا کہ احساس شرمندگی ، ذلت اور ندامت نے اسے بے جان سا کر دیا .
اس نے اپنا منہ اپنے سر پر رکھے کپڑے سے چھپا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا. احساس گناہ اور ندامت آنکھوں سے بہنے لگی ادھر آنسوؤں کی کثرت سے اس کا دامن بھیگنے لگا اور ادھر آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے جمع ہونے لگے ادھر رو رو کر معافی طلب کی جا رہی تھی تو ادھر رحمت کی گھٹاؤں نے بستی کو اپنی آغوش میں لے لیا اور پھر اسی میدان سے رحمت کی جل تھل کا آغاز ہونے لگا بستی والے حیران موسی پریشان کہ کوئی سیاہ کار میدان سے بھی نہیں نکلا پھر بھی رحمت کیسے ہونے لگی ؟ ادھر رونے والے نے اپنا منہ بکل سے نکالا تو بارش نے اس کے چہرے کے آنسو دھو ڈالے . معافی کی خوشی نے اسے آنکھوں کو چھلکا دیا لیکن اب منہ چھپانے کی بھی ضرورت نہ تھی اب بارش آنسوؤں کو چھپا رہی تھی سب کے سب خوشی سے گھروں کو لوٹ گئے.
اگلے روز موسی طور پر گئے تو اللہ سے شکوہ کے انداز میں پوچھا اے پروردگار اگر بارش ہی برسانی تھی تو مجھ سے یہ سب کہلوانے کی کیا ضرورت تھی؟ اللہ میاں نے فرمایا موسی بات بالکل وہی تھی لیکن اصل بات یہ ہے جب وہ میرا نہیں تھا تب بھی اس کی تمام تر سرکشی کے باوجود اسے کبھی رسوا نہیں کیا تھا ننگا نہیں کیا تھا. تو اب جب کہ وہ میرا ہوچکا تھا تو کیسے اس کی رسوائی ہونے دیتا .
اے دیوانے کاش تجھے رونا آ جائے . . کہ رونا کبھی بیکار نہیں جاتا
اس نے اپنا منہ اپنے سر پر رکھے کپڑے سے چھپا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا. احساس گناہ اور ندامت آنکھوں سے بہنے لگی ادھر آنسوؤں کی کثرت سے اس کا دامن بھیگنے لگا اور ادھر آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے جمع ہونے لگے ادھر رو رو کر معافی طلب کی جا رہی تھی تو ادھر رحمت کی گھٹاؤں نے بستی کو اپنی آغوش میں لے لیا اور پھر اسی میدان سے رحمت کی جل تھل کا آغاز ہونے لگا بستی والے حیران موسی پریشان کہ کوئی سیاہ کار میدان سے بھی نہیں نکلا پھر بھی رحمت کیسے ہونے لگی ؟ ادھر رونے والے نے اپنا منہ بکل سے نکالا تو بارش نے اس کے چہرے کے آنسو دھو ڈالے . معافی کی خوشی نے اسے آنکھوں کو چھلکا دیا لیکن اب منہ چھپانے کی بھی ضرورت نہ تھی اب بارش آنسوؤں کو چھپا رہی تھی سب کے سب خوشی سے گھروں کو لوٹ گئے.
اگلے روز موسی طور پر گئے تو اللہ سے شکوہ کے انداز میں پوچھا اے پروردگار اگر بارش ہی برسانی تھی تو مجھ سے یہ سب کہلوانے کی کیا ضرورت تھی؟ اللہ میاں نے فرمایا موسی بات بالکل وہی تھی لیکن اصل بات یہ ہے جب وہ میرا نہیں تھا تب بھی اس کی تمام تر سرکشی کے باوجود اسے کبھی رسوا نہیں کیا تھا ننگا نہیں کیا تھا. تو اب جب کہ وہ میرا ہوچکا تھا تو کیسے اس کی رسوائی ہونے دیتا .
اے دیوانے کاش تجھے رونا آ جائے . . کہ رونا کبھی بیکار نہیں جاتا
Saturday, 4 August 2012
Sunday, 29 July 2012
Mian Muhammad Nawaz Sharif
Mian Muhammad Nawaz Sharif was born on December 25, 1949 in Lahore, Punjab, Pakistan. He is the eldest son of Muhammad Sharif. Nawaz Sharif got his schooling from Saint Anthony’s High School. After graduating from Government College Lahore, he obtained his Law Degree from the Punjab University.
Nawaz Sharif remained a member of the Punjab Provincial Council for some time. He joined the Punjab Cabinet as Finance Minister in 1981. He first became Prime Minister on November 1, 1990, running on a platform of conservative government and an end to corruption. His term was interrupted on April 18, 1993, when President Ghulam Ishaq Khan used the reserve powers vested in him by the Eighth Amendment to dissolve the National Assembly. Less than six weeks later, the Supreme Court overruled the President, reconstituting the National Assembly and returning Sharif to power on May 26, 1993
Friday, 27 July 2012
University of the Punjab-Gujranwala Campus
University of The Punjab is located at Ali Pur Chowk on Shahra-e-Qaid e Azam .The Age of Punjab University is about 124 years today is 2012.and this is first time in the history of University that another campus in outside of Lahore,because Head quater of University is in Lahore the capital of Punjab.
It has area of 81 kannals, 37 class rooms, one is Administration Block, Open shelve library, A big Hall for multi purposes ,Car Parking and Canteen
Subscribe to:
Posts (Atom)




